جنم جلا
معنی
١ - پیدائشی کمبخت، منحوس۔ "مجھ جنم جلی کی قسمت ہی خدا نے ایسی بنائی ہے۔" ( ١٩١١ء، برق (گلدستہ پنج، ١٩١) ) ٢ - (ہمدردی کے اظہار کے موقع پر) بے چارہ، مصیبت زدہ، بد نصیب۔ "اس کی بدولت اس جنم جلی پر آفت ہے۔" ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، طرحدار لونڈی، ٤٦ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'جنم' کے ساتھ سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'جلنا' سے مشتق صیغہ ماضی مطلق بطور اسم صفت لگنے سے مرکب 'جنم جلا' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٧ء میں "توبۃ النصوح" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پیدائشی کمبخت، منحوس۔ "مجھ جنم جلی کی قسمت ہی خدا نے ایسی بنائی ہے۔" ( ١٩١١ء، برق (گلدستہ پنج، ١٩١) ) ٢ - (ہمدردی کے اظہار کے موقع پر) بے چارہ، مصیبت زدہ، بد نصیب۔ "اس کی بدولت اس جنم جلی پر آفت ہے۔" ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، طرحدار لونڈی، ٤٦ )